بے نشان

بے نشان

ہمیں قیامت کی نشانیوں میں یہ نہیں بتایا گیا

کہ وہ مرد ناپید ہوجائیں گے

جنہیں خدا نے ایک درجہ اوپر رکھا

ذرا اُ ن ماؤں کے دودھ کو جانچو

جس کو پی کے پروان چڑھنے ولا بچہ

بے کردار ہوجاتاہے

کسی ہیجڑے پہ لعن طعن مت کرو

وہ اپنے سوا کسی کا مذاق نہیں اُڑاتا

اور اب آنے والی صدیوں میں

جو نسلیں پیدا ہونگی

وہ کسی زنخے یا ہیجڑے سے زیادہ قابلِ رحم ہونگی

سو ہمیں مت دکھاؤیہ حسب نسب

ہم نے یہ سارے غرور ند ی نالوں میں بہتے ہوئے دیکھے ہیں

ہمیں قیامت کی نشانیوں میں یہ نہیں بتایا گیا

کہ ایک وقت ایسا آئے گا

جب کسی کی کوئی شناخت نہیں ہوگی

انجلاء ہمیش

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

2 تبصرے

میر حسین علی امام جنوری 14, 2020 - 8:59 شام
یہ نظم پڑھ رونگٹے کھڑے ھو گئے. لەجەانداز سب جارحانہ روایت سے باغی انجیل کی پہلی نظم پڑھی قوت توانائی ادراک سچائی ھ
Injila Hamesh جنوری 14, 2020 - 9:26 شام
بہت شکریہ میر حسین صاحب
Add Comment