بزمِ یاراں میں کیا گل کھلائے گئے

بزمِ یاراں میں کیا گل کھلائے گئے
ہر قَبا پر ستارے سجائے گئے

اتفاقاً کوئی قصر تاریک تھا
انتقاماً کئی گھر جلائے گئے

جن کی لَو خنجروں سے ذرا تیز تھی
وہ دیے شام ہی سے بُجھائے گئے

اپنی صورت بھی اک وہم لگتی ہے اب
اتنے آئینے مجھ کو دکھائے گئے

شہرِ دل پر مسلط رہیں ظلمتیں
دشتِ ہستی میں سورج اُگائے گئے

کیا غضب ہے کہ جلتے ہوئے شہر میں
بجلیوں کے فضائل سنائے گئے

دل وہ بازار ہے جانِ محسنؔ، جہاں
کھوٹے سکے بھی اکثر چلائے گئے
٭٭٭

Related posts

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی