اپنی طرف سے مجھ کو وہ برباد کر گیا

اپنی طرف سے مجھ کو وہ برباد کر گیا
مجھ میں نیا ہی شخص وہ ایجاد کر گیا

ویسے تو وہ اجاڑ کے چلتا بنا مگر
ایک حوصلوں کی بستی بھی آباد کرگیا

میری ریاضتوں کا محصّل تھا وہ کلام
جاتے ہوئے جو آنکھ سے ارشاد کر گیا

پردیس سے کما کے بھی لوٹے گا ایک دن
رستے تمام شہر کے وہ یاد کر دیا

ایسا نہیں کہ ظلم سے اس کو پڑا نہ فرق
اک بوجھ خود ضمیر پر وہ لاد کر گیا

آنکھوں کی سرزمین پہ ہوئی فصل اشک خوب
زخموں پہ قہقہوں کی وہ جب کھاد کر گیا

خستہ تنا تھا ظلمت شب سے بچا ہوا
ایندھن بنا تو آخری امداد کر گیا

اویس خالد

Related posts

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

نہیں خزاں ہی نشان قاتل