اپنے کتبے بنا رہے ہیں ہم

اپنے کتبے بنا رہے ہیں ہم
اپنی قبروں میں جارہے ہیں ہم

اتنا کنجوس ہونا بنتا ہے
سود پر سانس اٹھا رہے ہیں ہم

بحث پہنچی نہیں نتیجے پر
بس غبارہ پھلا رہے ہیں ہم

پھول بھی ٹانکتے ہیں کالر میں
گولیاں بھی چلا رہے ہیں ہم

غیر محفوظ جیل ہے یہ زمیں
جس کو جنت بتا رہے ہیں ہم

علی زیرک

Related posts

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی