اپنا رویہ تبدیل کرنا ہوگا

میرے واجب الاحترام پڑھنے والو
ایک اہل ایمان مسلمان ہونے کے ناطے ہمیں اس عارضی دنیا میں بھیجنے اور زندگی جیسی نعمت عطا کرنے کا ہمارے رب العزت کا کیا مقصد تھا ؟ اللہ تعالیٰ نے اس کرہ ارض کو وجود بخشنے کے لیئے جس ہستی کو اپنا محبوب بنایا حبیب کا درجہ دیا وجہہ تخلیق کائنات بنایا اور پھر ہمارے لیئے رحمت بناکر بھیجا تو کیوں ؟ صرف اس لیئے کہ ہم اس رب کے احکامات پر عمل کریں اس رب العالمین کے حبیب کریم ﷺ کی سنتوں پر عمل کریں اللہ تعالیٰ نے جن صحابہ کرام علیہم الرضوان اولیاء کرام تابعین تبہ تابعین اور بزرگان دین ہمارے رہنمائی کے لیئے بھیجے ان کی تعلیمات سے استفادہ حاصل کرسکیں ان کے چلنے پھرنے بات کرنے یہاں تک کہ ان کے ہر عمل کو اپنا کر اپنی اس عارضی دنیاوی زندگی اور آخرت کی زندگی اللہ کی مرضی کے تابع کرسکیں لیکن ایمانداری اور دیانتداری کے ساتھ اگر ہم اپنے گریبان میں جھانک کر اپنے آپ سے ہی پوچھیں کہ کیا ہم ایسا کررہے ہیں اپنے کسی بھی طرز عمل سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ہمیں جس مقصد کے لیئے باری تعالیٰ نے اس دنیا میں بھیجا کیا ہم اس پر پورا اترے یا اترنے کی کوشش کی ؟ یقیناً جواب میں ہمارا سر شرمندگی کی وجہ سے گریبان سے باہر ہی نہیں آئے گا ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں نہ ہمارے رویوں میں وہ بات ہے جس کی تعلیم ہمارے اسلاف نے ہمیں دی نہ ہی ہمارے اخلاق وہ ہیں جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے حبیب کریم ﷺ نے ایک حدیث میں فرمایا کہ بروز محشر میرے سب سے زیادہ قریب وہ شخص ہوگا جس اخلاق اچھے ہوں گے نہ ہی ہماری تعلیم وہ ہے جسے حاصل کرنے کے لیئے ہمارے بزرگان دین کئی کئی برسوں تک گھر سے دور رہ کر مشقت کرتے تھے نہ ہی ہمارے پاس صبر ہے نہ ہی ہمارے پاس شکر گزاری ہے نہ ہی ہمارے اندر برداشت کی طاقت ہے پھر ہم کیوں اتنے مطمعن نظر آتے ہیں کیا ہمیں مطمعن اور خوش ہونا چاہیئے ہرگز نہیں کبھی نہیں حضور ﷺ کے زمانے کی ہم بات کریں یا صحابہ کرام علیہم الرضوان کے زمانے کی اولیاء کرام کے زمانے کی بات کریں یا بزرگان دین کے وقت کی تو یہ اپنے معمولی سے معمولی عمل سے بھی دشمن کو دوست بنالیا کرتے تھے غیر مسلموں کو اپنے رویوں اور اخلاق کی وجہ سے دائرہ اسلام میں داخل کرلیا کرتے تھے لیکن بدقسمتی سے ہم ان کیا کررہے ہیں نہ ہمیں اللہ تعالیٰ کی ذات پر بھروسہ رہا اور نہ ہی توکل اس بات کی ایک جھلک یہاں میں ایک واقعہ میں آپ کو بتانے کی کوشش کرتا ہوں ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں ایک شخص جو نماز پڑھنے میں ہمیشہ سستی کا مظاہرہ کرتا تھا لیکن ایک دن ایک دوست کے کہنے پر اذان کی آواز سن کر مسجد کی طرف جانے لگا تاکہ وضو کرکے نماز پڑھ سکے ابھی جماعت چل رہی تھی تو موبائل کے بجنے کی آواز آنا شروع ہوگئی اور یہ آواز اسی شخص کے جیب میں رکھے موبائل سے آرہی تھی جسے وہ بند کرنا بھول گیا تھا جب نماز مکمل ہوگئی تو سب سے پہلے امام صاحب نے اسے خوب سنائی امام صاحب کو دیکھ کر دوسروں نے بھی اس شخص کو برا بھلا کہنا شروع کردیا اس نے اپنے دوست کی طرف دیکھا اور اٹھ کر مسجد کے باہر چلا گیا وہ شرمندہ بھی تھا اور غصہ میں بھی بہرحال اسی دن رات کو ایک دوسرے دوست کے کہنے پر وہ اس کے ساتھ ایک کلب میں چلا گیا وہاں پر اسے ایک گلاس میں ڈرنک پیش کی گئی لیکن اتفاق سے اس کے ہاتھ سے ٹھوکر لگی اور وہ گلاس گرکر ٹوٹ گیا اسی وقت کلب کا منیجر وہاں پہنچا اور کہنے لگا کہ سر آپ کو لگی تو نہیں اور پھر ویٹر سے کہا کہ سر کو دوسرا گلاس دےدو وہ بڑا حیران ہوا اور جب وہ باہر آیا تو سوچنے لگا کہ میں یہاں روز آئؤں گا کم ازکم لوگ عزت تو کرتے ہیں بیعزت تو نہیں کرتے ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں یہاں بات غلط یا صحیح کی نہیں ہے بلکہ اپنے رویوں اور اپنے اخلاق کی ہے ہم یہ بات آرام اور نرم لہجہ میں بھی کرسکتے تھے سب کے سامنے کہنے کی بجائے اکیلے میں بھی کرسکتے تھے ایک ایسا شخص جو نماز کے لیئے آنے میں ویسے ہی سستی کرتا ہے اگر ہم اپنے غلط لب و لہجہ کی وجہ سے اس کو سب کے سامنے اس طرح ذلیل کرتے ہیں تو کیا وہ دوبارہ مسجد کی طرف رخ کرے گا اگر ہم کسی بھٹکے ہوئے اہل ایمان مسلمان کو صحیح راستے پر لانے کی طاقت نہیں رکھتے تو ہمارے اسلاف کی طرح غیر مسلموں کو دائرہ اسلام تک کیسے لیکر آئیں گے جو صرف اپنے انداز سے اپنے رویوں سے اور اپنے اخلاق سے پتھر جیسے لوگوں کو بھی موم کردیا کرتے تھے یہ سب لوگ ہماری رہنمائی کے لیئے تھے اور ہیں ان کی تعلیمات ہمارے لیئے ہیں ان کا ہر ہر عمل ہمارے لیئے مشعل راہ ہے پھر ہمارے اندر یہ سب عوامل کیوں پیدا نہیں ہوتے ؟
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں ہمارا یہ انا پرست رویہ ہمارا یہ تکبرانہ رویہ اپنے ایمان کو کھو دینے کا سبب بن سکتا ہے جو انتہائی خطرناک ہے لہذہ ہمیں اپنے رویوں میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے کہ ہمیں اپنے اسلاف سے یہ ہی کچھ ملا ہے اب دیکھیئے شہنشاہ بغداد حضور غوث پاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں ایک شخص تھا جو گانے گایا کرتا تھا آواز سریلی تھی لہذہ لوگ اس کو سننے کے لیئے جمع ہوجاتے تھے حضور غوث پاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ اسے سمجھاتے کہ تو گانے نہ گایا کر یہ اچھی بات نہیں ہے تو وہ الٹا لوگوں کو کہتا کہ لوگ مجھے پسند کرتے ہیں مجھے سننے کے لیئے جمع ہوتے ہیں اس لیئے انہیں جلن ہوتی ہے ( معاذ اللہ) لیکن حضور غوث پاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کبھی سخت لہجہ نہیں اپنایا اور جب دیکھا کہ وہ نہیں مانتا تو مسکرا کر کہا ٹھیک ہے جائو جو کرنا ہے کرو اور اللہ تعالیٰ سے اس کے لیئے ہدایت کی دعا کی ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں وقت گزرتا گیا اور گزرتے وقت کے ساتھ وہ گانے والا بوڑھا ہوگیا اب اس کی آواز میں بھی وہ بات نہیں تھی جو پہلے تھی اور لوگوں نے بھی اب اس کی جگہ دوسرے کو سننا شروع کردیا اور جب تک وہ گاتا رہا حالات صحیح تھے سب گھر والے بھی خوش تھے لیکن جب حالات بدلے تو سب کچھ بدل گیا سب دور ہونے لگے اور گھر والے بھی اب اس سے تنگ تھے جب اسے اپنے اندر اکیلا پن محسوس ہونے لگا تو وہ قبرستان میں جاکر بیٹھ جاتا ایک دفعہ یوں ہی حضور غوث پاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ قبرستان کے قریب سے گزرے تو اس شخص کو دور سے بری حالت میں دیکھا تو واپس آکر ایک غلام کو سو دینار دیئے اور کہا کہ اس شخص کو دے آئے اور یہ نہ بتائے کہ کس نے دیئے ہیں لہذہ وہ غلام اس شخص کے پاس قبرستان پہنچا تو اس شخص کو دیکھا کہ اس کی بہت بری حالت ہے نہ کھانے کے لیئے کچھ تھا نہ پہننے کے لیئے کچھ جب اس نے وہ سو دینار دیئے تو اس نے بوڑھی آنکھوں اور کمزوری کی حالت میں آہستہ آہستہ سے آنکھیں کھولیں اور پوچھا کہ کس نے بھیجے ہیں تو غلام نے کہا کہ مجھے صرف یہ دینار آپ تک پہنچانے کا حکم تھا نام بتانے کا حکم نہیں تو اس شخص نے کہا کہ میں بھی بغداد کا رہنے والا ہوں جس طرح یہاں کے کونے کونے سے واقف ہوں بالکل اسی طرح یہاں کے ایک ایک شخص سے واقف ہوں میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ مجھ پر آج جب پورا بغداد ترس نہیں کھارہا تو پھر مجھ پر یہ مہربانی کون کرسکتا ہے یہ صرف اور صرف غوث الاعظم شیخ عبد القادر جیلانی حضور غوث پاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی ہیں جو یہ کام کرسکتے ہیں یہ کرم نوازی صرف وہ ہی کرسکتے ہیں اس گانے والے بوڑھے شخص کی یہ بات سن کر وہ غلام وہاں سے چلاگیا تو وہ شخص بھی اس کے پیچھے ہولیا اور یوں وہ بھی حضور غوث پاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دربار میں جاپہنچا جب وہ پڑھانے میں مصروف تھے تو سامنے کھڑا ہوگیا حضور غوث پاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب اسے دیکھا تو فرمایا ہاں بھئی کیسے آنا ہوا ؟ میں تمہارے لیئے کیا کرسکتا ہوں ؟ تو وہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پائوں پڑ گیا اور کہنے لگا کہ اے عبد القادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تو ہی سچا وارث ہے اپنے نبی حضور ﷺ کا لیکن میں اب اس بیماری میں بوڑھے ہوکر توبہ کرلوں تو رب العزت میری توبہ قبول کرلے گا ؟ تو حضور غوث پاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا تو اگر صدق دل سے تو توبہ کرلے گا تو تیری توبہ بھی قبول ہوگی اور میرا رب تجھے نیک بندوں میں شامل بھی کرلے گا ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں یہ ہے رویہ یہ ہے انداز اور یہ ہے طریقہ کسی بھٹکے ہوئے کو راہ راست پر لانے کا جب تک ہم اپنے رویہ میں مثبت انداز نہیں لائیں گے جب تک اپنے اچھے اخلاق سے کسی کا دل نہیں جیت لیتے تب تک بدقسمتی ہمارا پیچھا نہیں چھوڑے گی اور ہم کوئی نیک عمل کرنے میں کامیاب نہیں ہوں گے ٹھنڈے لہجے نرم مزاجی اور عاجزی ہی ہمارے رویہ میں تبدیلی لا سکتے ہیں ہمارا توکل اپنے رب پر مظبوط بناسکتے ہیں اور رب العالمین کی ذات پر کامل یقین ہی ہم سے دوسروں کو متاثر کرنے کی صلاحیت عطا کرتا ہے بس ہمیں اپنے رب تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنا ہوگا اس کے حبیب کریم ﷺ کی سنتوں پر عمل پیرا ہونا ہوگا جیسے آگے ایک واقعہ میں ہوا
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں ایک شخص ایک تندور والے کے پاس کلچے لینے کے لیئے گیا وہاں اس نے دیکھا کہ جو شخص تندور پر بیٹھے کلچے تیار کررہا تھا وہ سب لوگوں سے لڑنے کے انداز سے بات کررہا تھا یعنی چڑچڑے پن کے انداز سے جس کی وجہ سے کبھی وہ کلچے جلادیتا تو کبھی کچے چھوڑ دیتا وہاں پر موجود ہر شخص اس سے جلدی جلدی کلچے مانگ رہا تھا اور وہ غصے میں کہتا کہ بھائی تیار کررہا ہوں ذرا صبر کرو اور بڑبڑاتے ہوئے اس کے چہرے سے غصہ جھلک رہا تھا وہ شخص بڑے غور سے یہ سارا منظر دیکھ رہا تھا پھر جب اس کی باری آئی اور اس تندور والے نے کلچے نکالے تو کچھ لال تھے اس شخص نے اپنے کلچے دیکھ کر تندور والے سے کہا کہ بھئی واہ ایسے کلچے تم ہی بناسکتے ہو اس پورے علاقے میں تمہارے جیسے کلچے کوئی نہیں بناتا اس شخص کی یہ بات سن کر جیسے تندور والے کے چہرے پر یکدم تبدیلی آگئی جیسے اسے کوئی نئی توانائی مل گئی ہو اس نے مسکراتے ہوئے کہا صاحب ہر کسی کو جلدی ہے کسی کو صبر نہیں اور لوگ صبر سے کھڑے ہوں تو سب کو مال اچھا ملے ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں وہ شخص کہنے لگا کہ اس دن کے بعد میں جب بھی اس کے پاس گیا ہوں اس نے بڑے اچھے تل والے کلچے بناکر دیئے اگر کوئی شاگرد تندور پر ہو اور میں پہنچ جائوں تو وہ اس کو ہٹا کر خود میرے لیئے کلچے تیار کرتا اور وہاں پر موجود لوگ مجھے وی آئی پی سمجھتے میں نے سوچا کہ ابھی تو میں نے حضور ﷺ کی ایک سنت پر عمل کیا ہے جس میں اپنے رویہ کو صحیح کرکے اچھے اخلاق سے بات کرنے کا حکم دیا گیا ہے جس کی وجہ سے مجھے اتنی اچھی سروس ملی ہے اگر دوسری سنتوں پر عمل شروع کردوں تو یہ دنیا ہی میرے لیئے جنت بن جائے گی اور ہر شخص میرا گرویدہ ہو جائے گا ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں یہ نتیجہ ہے رویوں میں تبدیلی کا میرا ذاتی تجربہ ہے کہ آج کے دور میں بھی ہمیں اپنے اطراف ایسے لوگ ضرور میسر ہوں گے جو اپنے اچھے اخلاق اور مثبت رویوں کی وجہ سے لوگوں کی نظروں میں عزت و وقار کے ساتھ دیکھے جاتے ہوں گے جن سے ملنے کے لیئے جستجو اور مشقت تو کرنی پڑتی ہوگی لیکن جب ملاقات ہو جائے تو ہمیں سکون نصیب ہوجاتا ہے ہمارا دل کافی حد تک مطمئن ہوجاتا ہے اور ایسے لوگوں سے الحمدللہ میرا واسطہ پڑا ہے اور میں نے ان سے بہت کچھ سیکھا ہے اور اگر آپ کو ایسے لوگ نہیں ملتے تو آپ حضور ﷺ کی سیرت کا مطالعہ کیجیئے صحابہ کرام علیہم الرضوان کی زندگیوں کو پڑھیئے اولیاء کرام اور بزرگان دین کے حالات زندگی پر غور و فکر کیجیئے آپ کو ان لوگوں کے حالات و واقعات کو پڑھنے سے بہت کچھ سیکھنے کو ملے گا رویوں کا استعمال اچھے اخلاق کے طریقے نرم لہجے کے فوائد عاجزی و انکساری کا انعام یہ سب کچھ آپ کو یقیناَ یہیں ملے گا ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں اگر آپ کے اندر غصہ ہے تو اسے پی کر ٹھنڈے ہو جائیں اگر زبان سخت ہے تو اسے نرمی میں تبدیل کرلیں چڑچڑاپن ہے تو اسے آہستہ آہستہ ختم کرنے کی کوشش کریں اپنے سخت رویوں کو تبدیل کرنے کی کوشش کریں مشکل ضرور ہوگا لیکن ناممکن نہیں ہوگا کیونکہ کوشش کرنا اور وہ بھی اچھی کوشش یہ انسانوں کا کام ہے جبکہ اس پر کامیابی اللہ تعالیٰ عطا فرماتا ہے آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ہر ہر اس عمل پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے جو ہمارے اسلاف کے اندر موجود تھیں مجھے ہمیشہ سچ لکھنے ہمیں پڑھنے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین آمین بجاہ النبی الکریم ﷺ مجھے خصوصی دعاؤں میں ہمیشہ یاد رکھیئے گا ۔

محمد یوسف میاں برکاتی

Related posts

خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

انجمن پنجاب

تنقید کیا ہے