انا کے پیڑ کو ہاتھوں سے یارا کاٹ سکتی ہوں
سفر اس زندگی کا میں بھی تنہا کاٹ سکتی ہوں
میں عورت ہوں خدا نے صبر فطرت میں سمویا ہے
تبھی تو درد کا ہر ایک چِلا کاٹ سکتی ہوں
توکل ہے مرا رب پر یقیں کامل وہ طاقت ہے
میں اس دم پر یہاں ہر شر کا جالا کاٹ سکتی ہوں
لکھا ہو نام جس پر بس جدائی کا مرے ہمدم
شجر سے وقت کے میں وہ ہی پتا کاٹ سکتی ہوں
تُمہیں اتنا ہی کہنا تھا مگر یہ کہہ نہیں پائی
تمہارے سنگ جیون اپنا سارا کاٹ سکتی ہوں
حسابِ زندگی میں گر توازن ہو ضروری تو
تعلق کے بدن سے غم کا حصہ کاٹ سکتی ہوں
ملے جو دسترس گر وقت پر تو دیکھ لینا تم
کتابِ دل سے میں پھرنام تیرا کاٹ سکتی ہوں
مرے احساس نے یہ بارہا باور کرایا ہے
میں چاہوں تو ابھی ہر دکھ کا ہالہ کاٹ سکتی ہوں
گزاری عمر ساری ہجر میں پر شاز سچ ہے یہ
بِنا تیرے کہاں میں ایک لمحہ کاٹ سکتی ہوں
شاز ملک