عجب ہے کاغذِ قسمت

عجب ہے کاغذِ قسمت عجب اس پر لکھائی ہے
ہے دردِ غم قلم اس کا لہو کی روشنائی ہے

مرے زخموں کا مرہم ہے اسے پھر سے ہرا کرنا
انوکھا طرز ہے میرا عجب میری دہائی ہے

سلامت یوں نہیں رہ سکتا گل پر موتیٔ شبنم
گلوں سے گر کے مر جانا ہی شبنم کی رہائی ہے

سحر کے رات کے جیسے نہیں رُکتی مرے در پر
یہ قسمت اپنی ہو کر بھی مجھے لگتی پرائی ہے

رگوں میں خون کے اندر سسکتی آس ہے کوئی
یہی ۔۔ میرے بدن کے ساز کی نغمہ سرائی ہے

کلیجہ چیرتا ہے دن کو سورج شدتِ غم سے
مگر مزدوری کرنی ہے یہی واحد کمائی ہے

مرے جذبوں کے پروردہ مجھے اشعار پیارے ہیں
مرے ہر لفظ کی سسکی وقیع ان میں سمائی ہے

 

سید محمد وقیع

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان