آج کل آزاد خیال لڑکیاں

آج کل آزاد خیال لڑکیاں
خود کی شجر کو کلہاڈی مارتی ھے
بڑوں کا احترام کرنا آزاد لڑکیوں کا شیوہ نہیں
آج کی آزادی لڑکیاں اپنا کل نہیں دیکھتی
رہنا ہمیں اپنے شجر کے ساتھ نہیں
آزاد رہنا یوں اپنی زمہ داری سے کترانہ
من میں ہنس کر کہنا دیکھا میرا وار ھے
پر یاد نہیں کل تیری شجر کل تمہیں عزیز رکھے گی نہیں
آج کی لڈکی فکر اپنے کل کی
آج جو بوے گی کل تو کاٹے گی
شجر کو ہر موسم کا احساس دلا
اپنا آج کل اور مسقبل کا بھی خیال رکھ
آج کی لڑکی موسم چار ھے
اس کا احساس ھے
ٹھیک زندگی میں ویسے ہی رنگ ہونگے
آج کی لڑکی شجر کا خیال پر اترا مت
تمارا بھی دن آئے گا لیکن خیال رکھ

خدیجہ آغا

Related posts

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی