ایسی حالت جو ترے شہر نے کر دی میری

ایسی حالت جو ترے شہر نے کر دی میری
اس سے بہتر تھی کہیں دشت نوردی میری

پھول ہوں برگِ خزاں دیدہ کی تمثیل نہیں
آپ سرسوں سے ملا سکتے ہیں زردی میری

کوئی خورشید ہے اس شخص کی پیشانی میں
ایک بوسے سے اتر جاتی ہے سردی میری

تنگ دامن ہوں کہاں عرضِ تمنا رکھوں
تُو نے جھولی تو شکایات سے بھر دی میری

پھوٹ پڑتا ہے کسی کوہ سے جیسے چشمہ
کوئی الجھن بھی نکل آئی ہے دردی میری

کس کو ہے دشت نوردی کا سلیقہ ساجد
کون پہنے گا اتاری ہوئی وردی میری

لطیف ساجد

Related posts

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا