آئینے میں کسی افسوں کی طرح ڈھونڈتی ہے

آئینے میں کسی افسوں کی طرح ڈھونڈتی ہے
رائیگانی مجھے مجنوں کی طرح ڈھونڈتی ہے

منتظر خواب ہیں ان آنکھوں کے اور وہ لڑکی
اپنی بے خوابی کو گردوں کی طرح ڈھونڈتی ہے

جادہ ءِ غارِ حرا پر ہوں رواں جوں آیات
شعریت حسن کو مضموں کی طرح ڈھونڈتی ہے

اپنا افسانہ ہے دولخت زمانے! ہم کو
یاد اک مصرعِ موزوں کی طرح ڈھونڈتی ہے

کس کا ہے خیمہءِ تاریک یہ جس کو ابدال
روشنی دشت میں مجنوں کی طرح ڈھونڈتی ہے

عامر ابدال

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا