اِس سے آگے زندگی معدوم ہے

اِس سے آگے زندگی معدوم ہے
نقش بنتے اور بگڑتے ہیں یہاں
اِس جگہ پر شکلِ آب و گِل بدلتی ہے
آخری سرحد ہے یہ
آخری سرحد جہاں
کوزوں کا پانی بدلا جاتا ہے
یہیں سے چار موسم فاصلہ حدِ مکاں تا لا مکاں ترتیب پاتے ہیں
یہیں سے روشنائی پھُوٹتی ہے
ہوا کو پیڑ اُگتے ہیں
یہیں سے سانس کا رستہ نِکلتا ہے
اور آخر موڑ پر دم ٹوٹ جاتا ہے
یہاں پر سب تماشے ختم ہوتے ہیں
آخری سرحد ہے یہ
اس سے آگے زندگی معدوم ہے

دلاور علی آزر

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے