ایک دریا ہے مری آنکھ کی دیوار کے ساتھ

ایک دریا ہے مری آنکھ کی دیوار کے ساتھ
روز ملتا ہے مجھے وحشت و یلغار کے ساتھ

ہم کو رُکنا ہے کئی بار اُدھر دیکھنے کو
کیسے چل پائے کوئی وقت کی رفتار کے ساتھ

کوئی نقطے سے لگاتا چلا جاتا ہے فقط
دائرے کھینچتا جاتا ہوں میں پرکار کے ساتھ

یاد آتی ہیں کبھی بھولی ہوئی باتیں بھی
ایک اقرار کسی کا کسی انکار کے ساتھ

رنگ و رامش ہی پہ موقوف نہیں ہے سب کچھ
ہم کو رکھو نہ اسیرِ لب و رخسار کے ساتھ

کس کو معلوم، یہی روگ بنے گا اک دن
کتنے خوش باش ہیں کچھ لوگ غمِ یار کے ساتھ

صرف اور صرف محبت کا بیاں ایسا ہے
لطف کچھ اور بھی دیتا ہے جو تکرار کے ساتھ

سعدؔ وہ عام سا اک شخص ہے اور کچھ بھی نہیں
تم تو بس مارے گئے عشق کے اظہار کے ساتھ

سعد اللہ شاہ

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے