اگرچہ کھا کے رشوت

اگرچہ کھا کے رشوت بڑھ گئی ہے اس کی موٹائی
مگر چہرے پہ اب باقی نہیں پہلے سی رعنائی

غلط سمجھے ہو لیڈر قوم کے ہمدرد ہیں
کوئی دولت کا رسیا ہے کوئی کرسی کا شیدائی

ہمارے عہد میں توقیر کا معیار دولت ہے
شرافت کام آتی ہے ، نہ کام آتی ہے دانائی

کوئی ہم کو دلا دے کاش ایسی نوکری
برائے نام ہو تنخواہ پر انکم ہو بالائی

نہیں آتا ہے ان کو تیرنا چھوٹی سی ریا میں
سمندر کی مگر وہ ناپنے نکلے ہیں گہرائی

 

نیاز سواتی

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا