اے نیند نگر کی پریو۔۔۔ !

اے نیند نگر کی پریو۔۔۔ !
کیوں روٹھ گئی ھو
مجھ سے
نین نگر سے
کوسوں دور
جانے کس دیس
جا بسی ھو
آنکھوں کی سونی بستی
اک آس لگائے بیٹھی ھے
کب اس کے باسی آئیں گے
کب نیناں چین یہ پائیں گے
کب نیند کی دیوی آئے گی
دامن اپنا پھیلائے گی
من موجی اس میں
کھو جائے گا
دنیا کے جھمیلوں میں
کچھ پل چین۔ یہ پائے گا

اسماء بتول

Related posts

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی