اب زمانوں سے ہٹ کے بات کرو

اب زمانوں سے ہٹ کے بات کرو
ان بہانوں سے ہٹ کے بات کرو

تم ہو کتنے عزیز جانتا ہوں
بس گھرانوں سے ہٹ کے بات کرو

تم کو احساس ہو زمیں والوں کا
آسمانوں سے ہٹ کے بات کرو

پھر ہو مردانگی کا حق بھی ادا
زن کی رانوں سے ہٹ کے بات کرو

یہ محبت یہ عشق باتیں ہیں بس
گر فسانوں سے ہٹ کے بات کرو

 

ناصر زملؔ

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان