آؤ

آؤ
خدا سے باتیں کریں
جیسے پرندےدرخت اور پہاڑ
خدا سے ہم کلام ہوتے ہیں
یا پھر اِس طور سکوت اوڑھ لیں
جیسے طوفان سے پہلے
ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر
یکلخت خاموش ہو جاتا ہے
آؤ!اپنے ہونے کا تجربہ کریں
کچھ دیر کے لیے
اپنے جسموں سےباہر نکلیں
ساحل کی گیلی ریت پر
چہل قدمی کریں
آؤ،خدا سے باتیں کریں!

نجمہ منصور

Related posts

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی