آنکھ میں رَتجگا تو ہے ہی نہیں

آنکھ میں رَتجگا تو ہے ہی نہیں
ہجر کا تذکرہ تو ہے ہی نہیں

مِل گیا تُو، تو مِل گیا سب کچھ
اور کچھ مانگنا تو ہے ہی نہیں

ایک ہی راستہ نجات کاہے
دوسرا راستہ تو ہے ہی نہیں

عکس مجھ کو دِکھا رہا ہے کون؟
سامنے آئنہ تو ہے ہی نہیں

معذرت کر نہ بے وفا کہہ کر
اب مجھے ماننا تو ہے ہی نہیں

یہ مرض عشق کا مرض ہے میاں !
اِس مرض کی دوا تو ہے ہی نہیں

آپ اپنوں میں اب نہیں شامل
آپ سے اب گلہ تو ہے ہی نہیں

دوستوں پر یقین پُختہ ہے
دشمنوں پر شُبہ تو ہے ہی نہیں

شبیرنازش

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان