آخری پیڑ ہوں اور آخری پتھراؤ ہے

آخری پیڑ ہوں اور آخری پتھراؤ ہے
اس سے آگے تو فقط رستا ہوا گھاؤ ہے

میرا بیٹا جو بنا دیتا ہے دیواروں پر
ڈوبنے والو مرے پاس وہی ناؤ ہے

وہ جو ہر طاق میں روشن ہے چراغوں کی طرح
صبحِ صادق بھی اسی نور کا پھیلاؤ ہے

شہرِ کم ظرف اسے کیا کیا معانی دے گا
چاک والی کا جو شہزادے سے برتاؤ ہے

سارا دن ماپتا رہ جاتا ہے خورشید جسے
سرخئ شام اسی زخم کا گہراؤ ہے

کیا مری آنکھ میں اس بار بھی اظہار نہیں
کیا مری بات میں اس بار بھی الجھاؤ ہے

اس نے جس موج سے تالاب کو ہلچل بخشی
اب اسی موج سے ہر موج کا ٹکراؤ ہے

جب سے اس شخص نے بازار سے مونھ موڑ لیا
شہر میں تب سے ہر اک چیز اسی بھاؤ ہے

صابر رضوی

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا