عافیت میں بھی طبلِ جنگ رہا

عافیت میں بھی طبلِ جنگ رہا
کج ادائی ہی اس کا ڈھنگ رہا

مجھ سے بڑھ کر ہوا مرا چرچا
چھت سے اونچا سدا پتنگ رہا

اپنی جھولی ملامتوں سے بھرے
رقص و مستی میں اک ملنگ رہا

جن سَروں میں الگ سمائی ہو
ان کا انجام تیغ و سنگ رہا

زندگی کی غزل رواں نہ ہوئی
کچھ مِرا قافیہ بھی تنگ رہا

دل پہ کیا کیا خراش پڑتی رہی
پر یہ آئینہ ہفت رنگ رہا

میں نے صحرائے ہست و بود کی خاک
وہ اُڑائی کہ قیس دنگ رہا !!

صائمہ آفتاب

Related posts

درد کی سرحد سے دل بھی

دل لگی یاد آئے گی

دیے تھے ہم تو ماند سے