آدمی وقت پر گیا ہوگا

آدمی وقت پر گیا ہوگا
وقت پہلے گزر گیا ہوگا

وہ ہماری طرف نہ دیکھ کے بھی
کوئی احسان دھر گیا ہوگا

خود سے مایوس ہو کے بیٹھا ہوں
آج ہر شخص مر گیا ہوگا

شام تیرے دیار میں آخر
کوئی تو اپنے گھر گیا ہوگا

مرہم ہجر تھا عجب اکسیر
اب تو ہر زخم بھر گیا ہوگا

 

جون ایلیا 

Related posts

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی