اعداد و شمار میں نہیں تھے

اعداد و شمار میں نہیں تھے
ہم اس سنسار میں نہیں تھے

خوش اس لیے ہیں کہ, بے وفا کے
ہم حلقہء یار میں نہیں تھے

حیران ہیں مے کشی بھی کی تھی
ہم پھر بھی خمار میں نہیں تھے

اس بے وفا سے نظر لڑی جب
ہم اپنے مدار میں نہیں تھے

مجنوں ہمیں کہہ رہے تھے سب لوگ
ہم ان کے حصار میں نہیں تھے

اس واسطے بھی نہ روۓ فیاضؔ
ہم اپنے دیار میں نہیں تھے

نیند آتی بھی تو کیسے فیاضؔ
آغوش یار میں نہیں تھے

فیاض ڈومکی

Related posts

زمیں کی بات کرتے ہیں

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

مرد کے حصے کا ہجر