زندگی اتنی گراں بار نہیں

زندگی اتنی گراں بار نہیں
ہم ابھی مرنے کو تیار نہیں

لالہ و گل کی تمنا کیسی
ایک کانٹے کے روادار نہیں

بزم ہستی میں ہے ہو کا عالم
کوئی منصور سردار نہیں

راہ میں اور بھی دیواریں ہیں
ایک حالات کی دیوار نہیں

سب ہوس کے ہیں تقاضے باقیؔ
ورنہ گلشن میں کوئی خار نہیں

باقی صدیقی

Related posts

درد کی سرحد سے دل بھی

دل لگی یاد آئے گی

دیے تھے ہم تو ماند سے