زندگی

گم گشتہ مسرت کی خاطر رونے والے زندگی کے سفر میں ایسی جگہ آ جاتے ہیں جہاں سے ہر سمت پگڈنڈیاں نکلتی ہیں لیکن تھوڑی سی مسافت کے بعد ہر پگڈنڈی گم ہو جاتی ہے منزل کا کوسوں نام و نشان نہیں ۔۔۔ بھٹکے ہوئے راہی اس لیے زندہ ہیں کہ انہیں مرنا نہیں آتا ۔

Related posts

خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

انجمن پنجاب

تنقید کیا ہے