زندگی کوچۂ اغیار میں ضم ہونی ہے

زندگی کوچۂ اغیار میں ضم ہونی ہے
ہم سے تقدیر جنوں خاک رقم ہونی ہے

ضبط کا حکم نہ کر چھوڑ کے جانے والے
کوئی پتھر تو نہیں آنکھ ہے نم ہونی ہے

صبح سے سوچ کے ہلکان ہوا جاتا ہوں
ہائے مولا کہ ابھی شام الم ہونی ہے

جانے کب بال سمیٹے گی یہ کالی ڈائن
جانے کب صبح شہید شب غم ہونی ہے

یہ مری عین جوانی کا معمہ ہے میاں
عشق وہ آگ نہیں ہے جو بھسم ہونی ہے

عثمان علوی

Related posts

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں