زند گی ، کیسی زندگی ہوگی

زند گی ، کیسی زندگی ہوگی
جب رفاقت ہی دو گھڑی ہوگی

وہ جب آئے گا روشنی ہوگی
چا ند ہوگا تو چا ند نی ہوگی

جن کے احباب قتل ہو جا ئیں
ّْْ اْن کے چہرے پہ کیا خو شی ہوگی

وقت آ خر وہ آئے گا کہ ز میں
اپنے محور سے ہٹ رہی ہوگی

آؤ اب ہم ہی احتجاج کریں
چْپ رہیں گے تو بے حسی ہوگی

وا پسی کا نہ راستہ ہوگا
قوم جب سر پہ آ کھڑی ہوگی

پہل کر لیں گے بیو فا ئی میں
تیری چا ہت میں جب کمی ہوگی

پیار میں تب زوال آئے گا
جب وفا میں شکستگی ہوگی

چوٹ اْس کو بھی اب لگی ہے سوزؔ
چوٹ اُس نے کسی کو دی ہوگی

محمد علی سوزؔ

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا