زندہ ہوں اس طرح کہ غم زندگی نہیں

زندہ ہوں اس طرح کہ غم زندگی نہیں
جلتا ہوا دیا ہوں مگر روشنی نہیں

وہ مدتیں ہوئی ہیں کسی سے جدا ہوئے
لیکن یہ دل کی آگ ابھی تک بجھی نہیں

آنے کو آ چکا تھا کنارا بھی سامنے
خود اس کے پاس میری ہی نیا گئی نہیں

ہونٹوں کے پاس آئے ہنسی کیا مجال ہے
دل کا معاملہ ہے کوئی دل لگی نہیں

یہ چاند یہ ہوا یہ فضا سب ہیں ماند ماند
جو تو نہیں تو ان میں کوئی دل کشی نہیں

بہزاد لکھنوی

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان