ذکر جہلم کا ہے

ذکر جہلم کا ہے ، بات ہے دینے کی

چاند پکھراج کا ، رات پشمینے کی

کیسے اوڑھے گی اُدھڑی ہو ئی چاندی

رات کوشش میں ہے چاند کو سینے کی

کوئی ایسا گرا ہے نظر سے کہ بس

ہم نے صورت نہ دیکھی پھر آئینے کی

دَرد میں جاودانی کا احساس تھا

ہم نے لاڈوں سے پالی خلش سینے کی

موت آتی ہے ہر روز ہی رُو برو

زندگی نے قسم دی ہے کل، جینے کی

 

گلزار

Related posts

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی