زرا سی ہو جو اجازت

زرا سی ہو جو اجازت رہ سخاوت میں
میں اک چراغ جلا لوں تری محبت میں
ترے بغیر بھی دل کو دلاسہ رہتا ہے
زرا سا فرق ہے چاہت میں اور رغبت میں
زیادہ خوش نہیں ہونا کہ حور کی صورت
وہ میں ہی ہوں گی ملوں گی جو تم کو جنت میں
بہت پرانی ہے تیری مری محبت سن
یہ واقعہ نہیں ہوتا قلیل مدت میں
پلٹ کے آنا جہاں سے رہے نہ پھر ممکن
وہاں تلک نہیں جاتے کبھی عداوت میں

صوفیہ بیدار

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا