زر رہے ہیں عجب ماہ و سال ، پوچھئے مت

زر رہے ہیں عجب ماہ و سال ، پوچھئے مت
مجھے نہیں ہے خبر ، میرا حال ، پوچھئے مت

خدا بنایا گیا ، پھر بتوں سا روندا گیا
عروج پوچھئے مت اور زوال ، پوچھئے مت

بہت بدل گئے حالات یہاں ، آپ کے بعد
کبھی ملیں تو پرانا سوال ، پوچھئے مت

عُبور کیجئے بس نارسائی کا صحرا
پلٹ کے حالِ دلِ پائمال ، پوچھئے مت

خِرد گنوانے چلی تھی مری متاعِ حیات
کِیا ہے رقصِ جنوں یوں بحال ، پوچھئے مت

صائمہ آفتاب

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا