ضمیر راز داں ہے اور ، میں ہوں

ضمیر راز داں ہے اور ، میں ہوں
جہاں اندر جہاں ہے اور میں ہوں

در پیر مغاں ہے اور میں ہوں
وہی رطل گراں ہے اور میں ہوں

وہی دورِ زماں ہے اور میں ہوں
وہی رسمِ فغاں ہے اور میں ہوں

فریبِ رنگ و بو ہے اور تم ہو
بہارِ صد خزاں ہے اور میں ہوں

جہاں ہے اور سکوتِ نیم شب ہے
مرا قلبِ تپاں ہے اور میں ہوں

یہ دو ساتھی نہ جانے کب بچھڑ جائیں
مری عمرِ رواں ہے اور میں ہوں

مجید امجد

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی