زمیں کا سانچہ ہے اور آسمان کا خاکہ

زمیں کا سانچہ ہے اور آسمان کا خاکہ
یقیں کے پاس کہیں ہے گمان کا خاکہ

تصورِ کفِ جاناں بنا ہے آئنہ سار
میں کھینچتا ہوں زمان و مکان کا خاکہ

حلاوتِ لبِ شیریں بیاں کروں کیسے
میں حرف و لفظ سے کھینچوں زبان کا خاکہ؟

ابھی جو رات گرے گی اجاڑ جنگل پر
دکھائی دے گا مکمل تھکان کا خاکہ

ہمارے جسم کی مٹی اڑا مجسّمہ ساز
بنے کسی کے قدم کے نشان کا خاکہ

خدایا کُن کی حقیقت کو سمجھے کیا ابدال
دوحرف اور یہ اتنے جہان کا خاکہ

عامر ابدال

Related posts

​کب سے ہم نے تیرے غموں کو

حاصلِ عشق کا ہر روز تماشا نہ کریں

اپنی نیّت دیکھ لینا، پھر ہماری دیکھنا