زخم ایسا ہے دکھانے سے ہوا لگ جائے

زخم ایسا ہے دکھانے سے ہوا لگ جائے
تو دعا کر کہ مجھے کوئی دعا لگ جائے

ہم سے مستوں پہ ہر اک رنگ سوا کھلتا ہے
عین ممکن ہے اندھیرا بھی دیا لگ جائے

سبزگی ہو تو پرانا بھی غنیمت ہے مجھے
دل کی ویرانی میں اک روگ ہرا لگ جائے

شعر سے عشق اگر کار ہوس جیسا ہو
اتنے اچھے سے کریں سب کو برا لگ جائے

اونٹ بھی جیسے اداسی کا ہنر جانتے ہیں
بھوکے پیاسے ہوں مگر دشت بھلا لگ جائے

دل لگانے سے بہلنے کا نہیں ہے راشدؔ
اور وہ دل کہ جسے عشق خدا لگ جائے

راشد امام

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی