زخم کھلتے ہی چلے جاتے ہیں اظہار کے ساتھ

زخم کھلتے ہی چلے جاتے ہیں اظہار کے ساتھ
گر پڑا سایہ ء دیوار بھی دیوار کے ساتھ

جانیے کیا کہ فقیروں کا ارادہ کیا ہے
راستہ گرد کیے خواہش ِ بے کار کے ساتھ

تیرے عشاق سے پوچھا ہے بدن کا معنی
اپنا معیار بھی رکھا ترے معیار کے ساتھ

گریہ نسبت کے تناسب سے ہوا تھا پیدا
آنکھ ہی پھوڑ دی اس ہجر کے آثار کے ساتھ

اس لیے شور مچاتے ہیں پرندے ارشاد
گھونسلےبھی توگرے ہیں یہاں اشجار کےساتھ

ارشاد نیازی

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان