یونہی تو نہیں مجھکو ہیں محبوب یہ آنسو

یونہی تو نہیں مجھکو ہیں محبوب یہ آنسو
سدا رہتے ہیں تیرے ہجر سے منسوب یہ آنسو
مے سے بھی کہیں بڑھ کر، مجھے مخمور رکھتے ہیں
پسندیدہ ہے ان دنوں میرا مشروب یہ آنسو
تمھارے ذکر ہو تو راز سارے کھول دیتے ہیں
میری آنکھوں میں رہتے ہیں، کہاں مجذوب یہ آنسو
کسی کی راہ کو تکتے، جب آنکھیں خشک ہو جاٸیں
تو لے جانا مجھ سے تم، جو ہوں مطلوب یہ آنسو
نہیں یہ راٸیگاں جاتے، اگر دل سے بہاٸے ہوں
سکھاتے ہیں عشاقوں کو بہت اسلوب یہ آنسو
حاوی اب یہ سوچا ہے،کہ بہنے دوں نہ آنکھوں سے
ڈھال کر شعروں میں انکو، کروں مکتوب یہ آنسو

طارق اقبال حاوی

Related posts

ہر سمت جبر و ظلم کی تاریک شام ہے

ہم ترے نام سے ہر خواب سنوارا کرتے

میں نے سوچا ہے تمہیں