یوں دل نے ڈھونڈ رکھا ہے

یوں دل نے ڈھونڈ رکھا ہے اک مشغلہ نیا
کرتا ہے ایک ایک سے اک مشورہ نیا

میں جانتا ہوں تیغِ ستم کے سرور کو
اس درد کا تھا اب کے مگر ذائقہ نیا

سو بار آزمایا گیا ہوں میں جنگ میں
میرے لیے نہیں ہے کوئی معرکہ نیا

بارود بھر گیا ہے کوئی ہر دکان میں
ہوتا ہے روز شہر میں اک حادثہ نیا

ہر بار توڑتا ہوں کوئی دائرہ کلیمؔ
ہر بار کھینچتا ہے کوئی دائرہ نیا

کلیم احسان بٹ

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا