یوں اپنے آپ سے بیٹھے

یوں اپنے آپ سے بیٹھے کلام کرتے ہیں
گزارا ایسے ہی ہم صبح و شام کرتے ہیں

پرندے جانے لگیں چھوڑ کر انہیں جس وقت
تو رو کے پتے شجر کے سلام کرتے ہیں

میں تو اکیلا نہیں ہوں مجھے ہے ساتھ ان کا
سکوت شام کے مجھ سے کلام کرتے ہیں

چلو کہ دونوں کریں یاد ایک دوسرے کو
اگر کچھ اور نہیں تو یہ کام کرتے ہیں

ابھی تو سانس مری چل رہی ہے نا یا رب
جناب کیوں وہاں پھر اہتمام کرتے ہیں؟

چلو کہ ترکِ محبت کریں جلال یہاں
چلو کہ زندگی ایسے تمام کرتے ہیں

محمد حذیفہ جلال

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی