یوم مزدور

دیوار پہ مزدور کی تصویر سجا کر

اخبار کے کونے میں خبر ایک لگا کر

کچھ کارڈ بھی مزدور کے ہاتھوں میں اٹھا کر

دو چار غریبوں کو بھی دھرتی پہ بٹھا کر

ان میں سے کسی ایک کو اسٹیج پر لا کر

پھر اس کی کہانی سبھی لوگوں کو سنا کر

تقریر کرا کر تو کبھی تالی بجا کر

مزدور کو مزدور کا عرفان دلا کر

اور اپنے تئیں کار مقدس کو نبھا کر

ہر سال یہ احسان جتاتے ہیں بڑے لوگ

مزدور کا پھر جشن مناتے ہیں بڑے لوگ

نیل احمد

Related posts

درد کی سرحد سے دل بھی

دل لگی یاد آئے گی

دیے تھے ہم تو ماند سے