زرد موسم

زرد موسم

یہ زرد موسم کے خشک پتّے
ہوا جنہیں لے گئی اُڑا کر
اگر کبھی تم یہ دیکھ پاؤ
تو سوچ لینا
کہ ان میں ہر برگ کی نمو میں
زیاں گیا عرق شاخِ گل کا
کبھی یہ سر سبز کونپلیں تھیں
کبھی یہ شاداب بھی رہے ہیں
کھلے ہوئے ہونٹ کی طرح نرم اور شگفتہ
بہت دنوں تک
یہ سبز پتّے ہوا کے ریلوں میں
بے بسی سے تڑپ چکے ہیں
مگر یہ اب خشک ہو چکے ہیں
اگر کبھی اس طرف سے گزرو
تو دیکھ لینا
برہنہ شاخیں ہوا کے دل میں گڑی ہوئی ہیں
یہ اب تمہارے لیے نہیں ہیں

فہمیدہ ریاض

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے