یہ تو لازم نہیں اک شخص پہ وارے جاؤ
گر یہ لازم ہے تو پھر سارے کے سارے جاؤ
شب گزاری کے بھی حالات نہ پوچھو ان سے
اُن کی بس زلفِ پریشاں کو سنوارے جاؤ
یار کے در پہ ہی کاسہ لیے ہر وقت رہو
کون جانے ہے یہ کس وقت پکارے جاؤ
یوں نہ اتراؤ اے پیارے کہ یہ ہو سکتا ہے
آج دلبر ہو تو کل دل سے اتارے جاؤ
خستہ حالی مری دیکھی تو وہ بولے خستہ
عشق ہے بس کا تمہارے نہیں پیارے جاؤ
ذیشان احمد خستہ