یہ جنگ ہار نہ جائے سپاہ قید میں ہے

یہ جنگ ہار نہ جائے سپاہ قید میں ہے
غلام تخت پہ قابض ہیں شاہ قید میں ہے

پرندے اس لئے زنداں کے گرد گھومتے ہیں
کہ ان کی ڈار کا اک بے گناہ قید میں ہے

ترے حقوق کی کوئی نہیں ضمانت اب
غریب شہر ترا خیر خواہ قید میں ہے

سخن کی ہم کو اجازت نہ حکم دیکھنے کا
قلم اسیر سلاسل نگاہ قید میں ہے

سوال کون اٹھائے گا منصفوں پہ حضور
بری ہوئے سبھی مجرم گواہ قید میں ہے

یہ عرش و فرش کو اک دن ہلائے گی کوملؔ
درون دل جو مری سرد آہ قید میں ہے

کومل جوئیہ

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی