یہ حسیں لوگ ہیں

یہ حسیں لوگ ہیں، تو ان کی مروت پہ نہ جا
خود ہی اٹھ بیٹھ کسی اذن و اجازت پہ نہ جا

صورت شمع تیرے سامنے روشن ہیں جو پھول
ان کی کرنوں میں نہا، ذوق سماعت پہ نہ جا

دل سی چیک بک ہے ترے پاس تجھے کیا دھڑکا
جی کو بھا جائے کو پھر چیز کی قیمت پہ نہ جا

اتنا کم ظرف نہ بن، اس کے بھی سینے میں ہے دل
اس کا احساس بھی رکھ، اپنی ہی راحت پہ نہ جا

دیکھتا کیا ہے ٹھہر کر میری جانب ہر روز
روزن در ہوں میری دید کی حیرت پہ نہ جا

تیرے دل سوختہ بیٹھے ہیں سر بام ابھی
بال کھولے ہوئے تاروں بھری اس چھت پہ نہ جا

میری پوشاک تو پہچان نہیں ہے میری
دل میں بھی جھانک، میری ظاہری حالت پہ نہ جا

اعتبار ساجد

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا