یہ دنیا ہے اے قلبِ مضطر

یہ دنیا ہے اے قلبِ مضطر سنبھل جا
یہاں ہر قدم پر ہے ٹھوکر سنبھل جا

بڑے شوق سے پی مگر پی کے مت گر
ہتھیلی پہ ہے تیری ساغر سنبھل جا

جہاں حق کی قسمت ہے سولی کا تختہ
یہاں جھوٹ ہے زیبِ منبر سنبھل جا

قیامت کہاں کی، جزا کیا، سزا کیا
ہے ہر سانس اک تازہ محشر سنبھل جا

وہ طوفاں نے پر خوں جبڑوں کو کھولا
وہ بدلے ہواؤں کے تیور سنبھل جا

نہیں اس خرابات میں اذنِ لغزش
یہ دنیا ہے اے قلبِ مضطر سنبھل جا

 

مجید امجد

Related posts

درد کی سرحد سے دل بھی

دل لگی یاد آئے گی

دیے تھے ہم تو ماند سے