یہ دل خاموش کچھ ایسے

یہ دل خاموش کچھ ایسے ہؤا ہے
مجھے لگتا ہے جیسے مر چلا ہے

خدایا خیر میرے لشکروں کی
دیا جلتا ہؤا بجھنے لگا ہے

میں سچ کا ساتھ دیتا ہوں ہمیشہ
مرے جتنا کہاں کوئی برا ہے

مری جاں میں تو پھر بھی آدمی ہوں
یہاں لوگوں کو رب سے مسئلہ ہے

کہا تو کچھ نہیں ہے میں نے ایسا
جو تو مجھ سے خفا ہونے لگا ہے

ترے بن جی نہیں لگتا ہے میرا
محبت یہ نہیں تو اور کیا ہے ؟

تباہی پھیلتی ہی جا رہی ہے
خداوندا یہ سب کیا ہو رہا ہے

جاوید مہدی

Related posts

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

نہیں خزاں ہی نشان قاتل