یہ درد، یہ آہیں

یہ درد، یہ آہیں، یہ چبھن کس کے لیے ہے؟
آنکھوں میں مری اب بھی جلن کس کے لیے ہے؟

خلوت میں یہی سوچتی رہتی ہوں شب و روز
دن رات مشقت، یہ تھکن کس کے لیے ہے؟

میں کون ہوں، کیا ہوں، مجھے کوئی تو بتائے
آخر یہ مری جان، یہ من کس کے لیے ہے؟

کہتی ہوں بڑے پیار سے جس کے لیے غزلیں
گر وہ نہیں سنتا تو سخن کس کے لیے ہے؟

آنکھوں میں سجائے ہوئے اب بھی ہوں کئی خواب
آباد مرے دل کا چمن کس کے لیے ہے؟

جب کوئی نہیں تیرے سوا اپنا خدایا
دنیا سے مجھے پھر بھی لگن کس کے لیے ہے؟

مجھ کو کسی احساس نے چونکا سا دیا ہے
تیار جو ہوتا ہے کفن، کس کے لیے ہے؟

روبینہ شاد

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی