یہ تماشائے رنگ و بُو بھی مجھے
خواب لگنے لگا ہے تُو بھی مجھے
جو مری تشنگی سے نکلی تھی
پوچھتی ہے وہ آب جُو بھی مجھے
میں نہ کہتا تھا بھول جائے گا
بھول جائے گا دیکھ تُو بھی مجھے
کاشف حسین غائر
یہ تماشائے رنگ و بُو بھی مجھے
خواب لگنے لگا ہے تُو بھی مجھے
جو مری تشنگی سے نکلی تھی
پوچھتی ہے وہ آب جُو بھی مجھے
میں نہ کہتا تھا بھول جائے گا
بھول جائے گا دیکھ تُو بھی مجھے
کاشف حسین غائر