یہاں پر جو بھی خدا پر یقین

یہاں پر جو بھی خدا پر یقین رکھتا ہے
سمجھ لو یوں کہ عطا پر یقین رکھتا ہے

دعا کرو کہ بھروسہ نہ ٹوٹ جائے کہیں
وہ سادہ لوح وفا پر یقین رکھتا ہے

جو سر پہ بیٹھ گیا تخت و تاج میرے ہیں
مرا یہ دل تو ہما پر یقین رکھتا ہے

یہ در گزر یہ معافی یہ منتیں غارت
وہ ترش رو تو سزا پر یقین رکھتا ہے

نہ ڈور پر ہے نہ کاغذ پہ کچھ یقیں اس کو
پتنگ باز ہوا پر یقین رکھتا ہے

جو مجھ سے پوچھو تو سعدی کا یہ وتیرہ ہے
وہ دل سے آتی صدا پر یقین رکھتا ہے

سعاد ت علی سعدی

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی