وہ روشنی ہے سو اس کا حوالہ ایک نہیں

وہ روشنی ہے سو اس کا حوالہ ایک نہیں

یہاں بہت ہیں ملالہ ، ملالہ ایک نہیں

سیاہ شب کے افق تاب روزنوں کی قسم

بہت سی روشنیاں ہیں اجالا ایک نہیں

یہ کہکشاں ، یہ ستارے ، یہ چاند ، یہ سورج

دیارِ نور میں نازوں کا پالا ایک نہیں

مہ تمام ، زمیں کو نگاہ بھر کے تو دیکھ

جو اس کے گرد بنا ہے وہ ہالہ ایک نہیں

یہ سب پسند کے مظلوم چُن رہے ہیں سعو د

ستم تو یہ ہے ستم کرنے والا ایک نہیں

سعود عثمانی

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی