یاروں میں تو مشہور ہے

یاروں میں تو مشہور ہے یارانہ ہمارا
اِس شہر کا دشمن بھی ہے دیوانہ ہمارا

ظاہر میں تو خوش باش نظر آتے ہیں لیکن
دل غم سے تمھارے نہیں بیگانہ ہمارا

آنکھوں سے بڑھاتا ہے کوئی پیاس ہماری
ہونٹوں سے کوئی بھرتا ہے پیمانہ ہمارا

کب آٶ گے اور آ کے گلے ہم سے ملو گے
دل پوچھتا ہے ہم سے یہ روزانہ ہمارا

بِن تیرے جو زندہ ہیں تو زندہ ہی کہاں ہیں
یوں جینے سے بہتر نہیں مر جانا ہمارا؟

عزت کا شرف ہم کو وراثت میں ملا ہے
نسلوں سے ہے انداز شریفانہ ہمارا

جاں دے کے چلے آئے درِ یار پہ فیصل
مقبول ہو شاید یہی نذرانہ ہمارا

فیصل شہزاد

Related posts

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

نہیں خزاں ہی نشان قاتل