وہ نظر آئنہ فطرت ہی سہی

وہ نظر آئنہ فطرت ہی سہی
مجھے حیرت ہے تو حیرت ہی سہی

زندگی داغ محبت ہی سہی
آپ سے دور کی نسبت ہی سہی

تم نہ چاہو تو نہیں کٹ سکتی
ایک لمحے کی مسافت ہی سہی

دل محبت کی ادا چاہتا ہے
ایک آنسو دم رخصت ہی سہی

آب حیواں بھی نہیں مجھ پہ حرام
زہر کی مجھ کو ضرورت ہی سہی

اپنی تقدیر میں سناٹا ہے
ایک ہنگامے کی حسرت ہی سہی

اس قدر شور طرب کیا معنی
جاگنے کی مجھے عادت ہی سہی

بزم رنداں سے تعلق کیسا
آپ کی میز پہ شربت ہی سہی

حد منزل ہے مقرر باقیؔ
رہرو شوق کو عجلت ہی سہی

باقی صدیقی

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا