وہ لب میری نظر کے سامنے ہے

وہ لب میری نظر کے سامنے ہے
گُلِ تر چشمِ تر کے سامنے ہے

دوامی زندگی کی کیا حقیقت
حیاتِ مختصر کے سامنے ہے

دریچہ باغ میں کھلتا تھا پہلے
اب اک بازار گھر کے سامنے ہے

بشر نے ہاتھ سے تعمیر کی ہے
یہ دنیا جو بشر کے سامنے ہے

شعور اپنی زباں سے کیا بتاؤں
سبھی کچھ شہر بھر کے سامنے ہے

انور شعورؔ​

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا